Introduction

Sultana Mehr is  a great biographical memoir (Tazkara Nigaar) of the present era.She is a poetess,short story writer,novelist and a journalist,but consciously she has preferred to be called a memoirs writer(Tazkara Nigaar) .And in the field of biographical memoirs (Tazkara Nigaari )her work is of such a standard that she can obviously be rated as an important memoir.
As a whole in her eight books,she has written an introduction of 722 literary personals.These eight books comprise 8364 pages.In these books she mentioned creative personalities,male and female of Indo- Pak and forign countries.In this way Sultana Maher has collected,from the whole world,the important names  and works of  contemporary literary world.
An Important aspect of her work is that she has done  her work in the united states,where no helper was available  to her and also the milieu was not  knowledge friendly and nourishing for literature.
Asad Mustafa,in his article,has taken in a comprehensive way,a scholarly  review of Sultana Mehr’s biographical memoirs and he has declared her work unique and important.
According to Asad Mustafa,her work will be of immense importance in the field of research on creative personalities residing in foreign countries.

ڈاکٹراسد مصطفی

اردو زبان وادب کا سفینہ بظاہرایک عرصہ سے تذکرہ نگاری کے دریاو¿ں سے گزرتاہوا جدید تنقیدی دبستانوں کے بحرالکاہل اور ساختیات اور پس ساختیات کی بندرگاہوں پر لنگر انداز ہے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ اب تحقیق کے میدان میں بھی شخصیت اور فن پر کام کو وہ اہمیت حاصل نہیںرہی جو کچھ عرصہ پہلے تھی۔بقول ادیب سہیل ”صاحبان قلم کو شخصیات پر نہیں بلکہ ادبی مسائل پر قلم اٹھانا چاہیے“(۱)
    لیکن اس کے باوجود شخصیات نگاری کوبالکل نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ تخلیق کار کی شخصیت کا مطالعہ اکثر اوقات فن پارے کے تجزیے اورتخلیق کار کی شخصیت کی تحلیل نفسی میں بہت ہی ممد ومعاون ثابت ہو تا ہے ۔دوسری بات یہ ہے کہ ہم اس طرح سے اپنے مشاہیر اور ان کے علمی و ادبی کام سے بھی بخوبی روشناس ہوتے ہیں۔بقول مشفق خواجہ”نکات الشعرا(میر) سے سخن الشعرا(نساخ) تک درجنوں تذکرے لکھے گئے اور یہی ہماری ادبی تاریخ کی بنیاد ہیں۔ان تذکروں میں ہزار خامیاں سہی،لیکن یہی ایک خوبی کیا کم ہے کہ ہم اپنے بے شمار شاعروں سے انہی تذکروں کے ذریعے واقف ہوئے ہیں۔“(۲)
 اس لحاظ سے تذکرہ نگاری کی بھی اپنی ایک اہمیت ہے ۔تذکرہ نگاری میں چونکہ بہت سے شعرا اور ادبا کا ذکر اور نمونہ کلام شامل کیا جاتا ہے، اس لیے فرداً فرداً ہر ایک کے انفرادی پہلوو¿ں پر بہت تفصیل سے روشنی نہیں ڈالی جا سکتی۔لیکن ایک جگہ پر کئی تخلیق کاروں کے ذکر سے نہ صرف ان تخلیقی شخصیات کا مطالعہ کیاجاسکتا ہے بلکہ معاصرانہ ادبی رجحانات اور رویوں کی جامع تاریخ بھی مرتب کی جاسکتی ہے ۔چنانچہ مشفق خواجہ کے بقول”اگر کسی کے جیتے جی اس کے حالات لکھ دیئے جائیں اور اس سلسلے میں صاحب سوانح کی مدد بھی حاصل کر لی جائے تو سوانحی تحریر معتبر ومستند ہو سکتی ہے “ (۳)
     برطانیہ میں مقیم سلطانہ مہر کا شمار عہد حاضر کی سب سے بڑی خاتون تذکرہ نگار کے طور پر ہوتا ہے ۔انہوں نے مجموعی طور پر آٹھ تذکروں مےں۲۲۷ شعرا¿ اور شاعرات کا تعارف کرایا ہے۔یہ آٹھ تذکرے۴۶۳۸ صفحات پر مبنی ہیں۔ان کے تذکروں کی کتابوں کے اسما درج ذیل ہیں:۔
۱۔آج کی شاعرات۳۷۹۱ئ( اس مےں اُس دور کی سینئر اور نئی103شاعرات کا تعارف شامل ہے)
۲۔سخنور اوّل ۔۸۷۹۱ءپاکستانی شعرا¿ کا تذکرہ ( اس کے تےن اےڈےشن شائع ہوچکے ہےں)
۳۔سخنور دوم ۔۶۹۹۱ء۔بیرونی ممالک میں مقیم شعرا¿ ور شاعرات کا تذکرہ
۴۔سخنور سوم۔۸۹۹۱ء۔شعرا¿ ورشاعرات کا تذکرہ
۵۔سخنور چہارم۔۰۰۰۲ئ۔شعرا¿ ور شاعرات کا تذکرہ
۶۔ سخنور پنجم۔۴۰۰۲ئ۔ شعرا¿ و شاعرات کا تذکرہ
۷۔گفتنی اوّل۔۰۰۰۲ئ۔ نثر نگاروں کا تذکرہ
۸۔گفتنی دوم۔۴۰۰۲ء۔نثر نگاروں کا تذکرہ
سلطانہ مہر کا پہلا تذکرہ خواتین شاعرات کا ہے جو ۳۷۹۱ءمیں ”آج کی شاعرات“ کے نام سے شائع ہوا۔ےہ کتاب دو سو سات صفحات (۷۰۲) پر مشتمل ہے۔اس کتاب کا موجب ۷۶۹۱ءمیںروزنامہ جنگ کراچی میں”آج کا شاعر“ کے نام سے شائع ہونے والا،وہ سلسلہ¿ مضامین ہے ،جس نے بعد میں سلطانہ مہر کو تذکروں کی آٹھ کتابوں کا مصنف بنا دیا ۔
اس کتاب کے تےن حصے ہےں۔ ’ پہلا حصہ ”بوئے گل“ ہے ۔یہ حصہ اےک سوسات صفحات پر مشتمل ہے جس میں اکسٹھ (۱۶) شاعرات کا ذکر ہے۔اس میں بعض نامور شاعرات بھی شامل ہیں۔چند نام درج ذیل ہیں:۔ عشرت آفرےں،پروےن شاکر، آنسہ پنہاں( امرےکہ مےں مقےم شاعرہ)صائمہ خےری اور شفےق بانو برےلوی
دوسرا حصہ ” نالہ¿ دل“ ہے جو انسٹھ (۹۵) صفحات پر مشتمل ہے۔ اس مےں تےئس(۳۲) شاعرات کا تذکرہ موجود ہے ۔ان مےں ادا جعفری، فہمےدہ رےاض، کشور ناہےد، زہرہ نگاہ، سحاب قزلباش، طلعت اشارت، پروےن فنا سےد، وحےدہ نسےم، سعےدہ عروج مظہر، مےمونہ غزل اور رابعہ نہاں کے نام شامل ہےں۔
 کتاب کے تےسرے حصے کا نام ” دودِ چراغ محفل“ ہے ۔ یہ حصہ انےس (۹۱) صفحات پر مشتمل ہے اور اس مےں اس دور کی انےس (۹۱) شاعرات کا ذکر ہے۔ بعض نام ملاحظہ ہوں۔بغدادی بےگم،رابعہ نہاں،کنےز فاطمہ حےا،بےگم سروری عرفان اللہ روحی،صفےہ شمےم ملےح آبادی، (جوش صاحب کی بھانجی) رشےدہ بےگم عےاں، ( امرےکہ مےں مقےم ہےں) اور نور الصباح بےگم ۔
”آج کی شاعرات“” محراب ادب“ کراچی کے تحت شائع ہوئی اور اس کے پرنٹرز” حقی آفسٹ پرےس“کراچی اور ” ہرمن پرنٹرز“ کراچی دونوں تھے۔
سلطانہ مہر کے شوہر،جاوید اختر چوہدری اس سلسلے میں لکھتے ہیں:۔
    ” محراب ادب“ سلطانہ مہر کے پہلے ذاتی ادارے کا نام تھا جو پےر الہٰی بخش کالونی مےں واقع تھا۔کتاب کی قےمت بےس روپے تھی اور تعداد اشاعت اےک ہزار تھی۔ کتاب گلابی کاغذ پر طبع کی گئی ہے اور تمام شاعرات کی تصاوےر کے ساتھ ۔ کتاب کے حاشےوں کو خواتےن کے خاکوں سے سجاوٹ دی گئی ہے جبکہ سرِ ورق پر سادہ تزئےن کاری ہے۔“(۴)
    ”سخنور “(اوّل)سلطانہ مہر کی دوسری کتاب ہے۔یہ پا کستان سے تعلق رکھنے والے شعرا¿ کرام کا تذکرہ ہے ۔اسے سلطانہ مہر نے پہلی بار۹۷۹۱ءمےں شائع کےا۔ اس کا دوسرا اےڈےشن ۰۸۹۱ءمےں اورتےسرا اےڈےشن ۰۰۰۲ء”مےں مہر بک فاو¿نڈےشن لاس اےنجلس امرےکہ“ نے شائع کیا۔ جاوید اختر چوہدری اس کے متعلق لکھتے ہیں:۔
    ”اس کا سر ورق مشہور مصور آذر زوبی نے بناےا تھا۔ کتاب کا پہلا اور دوسرا اےڈےشن اب سلطانہ مہر کے پاس محفوظ نہےں مگر تےسرا اےڈےشن ہے جس مےں کتاب کی قےمت چار سو روپے اور بےرون ملک $ 20.00 مقرر تھی۔ سخنور اوّل مےں ۲۷ شعرا¿ کا تذکرہ ہے۔ کتاب کا تےسرا اےڈےشن ” ذکی سنز پرنٹرز“ آئی آئی چندریگر روڈ کراچی کے تحت شائع ہوا۔ اس تےسرے اےڈےشن کے سر ورق کی پشت پر سلطانہ مہر کی تصوےرکے ساتھ ان کی دےگر کتابوں کے نام اور سخنور اوّل ،دوم،سوم،چہارم،گفتنی اوّل (نثر نگاروں کا تذکرہ) اور ”ساحر کا فن اور شخصےت“ کے سرِ ورق کی تصوےرےں موجود ہےں۔سخنور اوّل کے صفحات کی تعداد ۴۲۴ ہے۔ اس کے تےسرے اےڈےشن مےں کتاب مذکورہ کے حوالے سے محترم ڈاکٹر جمےل جالبی ،محترم پروفےسر ممتاز حسےن ،محترم مشفق خواجہ،محترم شبنم رومانی، محترم سےد ضمےر جعفری اور سلطانہ مہر کے مضامےن شامل ہےں۔“(۵)
”سخن ور“ (دوم)بیرونی ممالک میں مقیم شعرا اور شاعرات کا تذکرہ ہے ۔اس کے انتخاب کے وقت سلطانہ مہر امریکہ میں مقیم تھیں۔یہ انتخاب ۸۱۵ صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں پاکستان سے باہر اردو ادب کی چھوٹی بڑی بستیوں کے ۸۸ شعرا اور شاعرات کا کلام اور تذکرہ موجود ہے ۔کتاب کی پشت پر ڈاکٹر وحےد قرےشی کی رائے بھی درج ہے۔جبکہ سلطانہ مہر کے اپنے مضمون ” گہر ہونے تک“ کے علاوہ ڈاکٹرجمےل جالبی،ڈاکٹر فرمان فتح پوری، مشفق خواجہ کی آرا¿ اور راغب مراد آبادی کا منظوم خراج تحسین بھی شامل ہے ۔ ےہ کتاب مہر بک فاونڈیشن کیلیفورنیا کے تحت۶۹۹۱ءمےں شائع ہوئی تھی اوراس کی طباعت کراچی میں ہوئی ۔اس کتاب کی قےمت چار سو روپے(۰۰۴)پاکستان مےں اور بےرونِ ملک بےس امرےکی ڈالر تھی۔سرِ ورق پاکستان کے مشہور مصور آذر زوبی نے بنایا ہے۔
”سخنور“ (سوم) کی اشاعت جنوری۸۹۹۱ءمیں ” مہر بک فاو¿نڈےشن امرےکہ“ کے زےر ِ اہتمام شائع ہوئی۔یہ کتاب۸۸۴صفحات پر مشتمل ہے۔اس میں ۲۸ شعرا¿ اور شاعرات کا تذکرہ شامل کیا گیا ہے۔اس میں شامل بیشتر شعرا کا تعلق پاکستان سے ہے ۔دیباچہ خود سلطانہ مہر نے لکھا ہے جبکہ کتاب میں سےد ضمےر جعفری،ڈاکٹر محمد علی صدےقی،ڈاکٹر حنےف فوق، حماےت علی شاعر اور سحر انصاری کی آرا شامل کی گئی ہیں۔اس کتاب کے آخر میںسلطانہ مہر کے تےن تذکروں ”آج کی شاعرات“ ” سخنور اوّل “اور” سخنور دوم“ میں شامل شعرا¿ کے ناموں کی فہرست درج ہے۔
”سخنور “(چہارم) نوے (۰۹) شعرا¿ و شاعرات کا تذکرہ ہے۔ یہ کتاب پانچ سو پانچ صفحات(۵۰۵) پر مشتمل ہے۔ےہ تذکرہ ۰۰۰۲ءمےں ” مہر بک فاو¿نڈےشن امرےکہ“ کے تحت ”ذکی سنز“ آئی آئی چندرےگر روڈ کراچی کے پرےس سے شائع ہوئی۔
” سخنورپنجم“ ۵۷۵ صفحات پر مشتمل ہے۔یہ ۱۰۱ شعرا¿ و شاعرات کا تعارف ہے۔اس کتاب کا سرورق اور پشت، اس مےں شامل تمام شعرا¿ ور شاعرات کی تصاوےر سے سجاےا گےا ہے ۔ یہ کتاب ” مہر بک فاو¿نڈےشن “ کےلےفورنےا امرےکہ کے تحت شائع کئی گئی ۔جاوید اختر چوہدری اس سلسلے میں لکھتے ہیں:۔
”سخنور چہارم“کو سلطانہ مہر نے ۰۰۰۲ءمےں مکمل کےا اور پھر انہوں نے اپنے حسابوں ےہ سلسلہ ختم کر دےاکےونکہ ۰۰۰۲ءمےں ہی انہوں نے نثر نگاروں کا پہلا تذکرہ ”گفتنی اوّل“ بھی مکمل کےا تھا۔ بلاشبہ دورِ حاضر مےں وہ واحد خاتون تذکرہ نگار ہےں جنہوں نے شعرا¿ و شاعرات اور نثر نگاروں کے آٹھ تذکرے لکھے ہےں مگر۔۔ ابھی عشق کے امتحاں اور بھی’ ’تھے“
 (۶)          
یہی عشق کا امتحان انہیں ”گفتنی “(دوم) کی طرف لے گیا۔”گفتنی“ اول ۰۰۰۲ءمیں شائع ہو چکا تھا ۔ یہ دونوں سلسلے نثر نگاروں کے تذکرے ہیں۔”گفتنی “(اول) ۲۲۶ صفحات پر مشتمل ہے جس میں ۹۹ اادیبوں کے فن اور شخصیت کا احاطہ کیا گیا ہے ۔”سخنور “(پنجم) کی طرح ”گفتنی “(اول) کا سرورق اور پشت بھی ادیبوں کی تصاویر سے مزین ہے ۔اسے مہر بک فاو¿نڈےشن امرےکہ“ کے تحت ”ذکی سنز“ آئی آئی چندرےگر روڈ کراچی نے شائع کیا ہے ۔اس کتاب کے متعلق جاوید اختر چوہدری لکھتے ہیں:۔
”آج کی شاعرات“ کے بعد احباب ِ ادب کو گلہ تھا کہ سلطانہ مہر نے نثر نگاروں کو نظر انداز کر دےا ہے۔چنانچہ انہوں نے نثر نگاروں کے تذکرے کو ” گفتنی“ کانام دے کر اےک سوالنامہ تےار کےاجو صرف نثر نگاروں کے لیے تھااور اس کے لیے خصوصی طور پرہندوستان گئےں اور کئی ادےبوں سے خود ملاقات کی ،جن مےں محترمہ قرة العےن حےدر ،ڈاکٹر شمع زےدی،جےلانی بانو،جوگندر پال،ڈاکٹر خلےق انجم، محترمہ انور نزہت، ڈاکٹر صغریٰ مہدی،ڈاکٹر گوپی چند نارنگ،محترم مجتبیٰ حسےن اور ڈاکٹر محمد حسن کے نام بطورِ خاص شامل ہےں۔ اسی طرح پاکستان جا کر بھی انہوں نے ڈاکٹر محمد علی صدےقی ، جناب صہبالکھنو¿ی، ڈاکٹر جمےل جالبی،ڈاکٹر خاور جمےل،شکےل عادل زادہ،حسن ہاشمی ،ڈاکٹر سلےم اختر،ڈاکٹر فرمان فتح پوری اورسےد عرفان علی عابدی سے ملاقات کر کے ان کا تعارف لکھا۔دےگر صاحبان سے بذرےعہ ڈاک رابطہ کےا ۔ کےنےڈا اور برطانےہ مےںمقےم اہلِ ادب احباب بھی اس تذکرے مےں شامل ہےں“(۷)     
 ”گفتنی “(دوم )پاک وہند کے علاوہ برطانےہ،ےورپ،کےنےڈا ،سعودی عرب اور امرےکہ مےں آباد ،۷۸ نثر نگاروں کے حالات اور خیالات پر مبنی کتاب ہے ۔ اس کتاب کے صفحات کی تعداد ساڑھے پانچ سو ہے اور یہ ۴۰۰۲ءمیں شائع ہوئی تھی۔
سلطانہ مہر نے دیگر اصناف میں بھی کام کیا ہے لیکن ان کی بنیادی پہچان ایک تذکرہ نگار کے طور پر ہے۔تذکرہ نگاری سے ان کی پرجوش وابستگی نے انہیں انفردیت دلا دی ہے ۔اسی انفرادیت کا ذکر کرتے ہوئے قیصر تمکین لکھتے ہیں:۔
” انہوں نے تن تنہا‘ بلا کسی شرکت و معاونت کے چھ سات ضخےم جلدوں پر مشتمل عہدِ حاضر کے شاعروں اور نثر نگاروں کا انتہائی جامع تذکر ہ مرتب کےا ہے۔ ےہ کام کتنا مشکل ہے اس کا اندازہ کرنے کے لیے ،ےاد فرمائےے نواب رامپور نے حضرت امےر مےنائی سے شعرا ¿ رامپور کا تذکر ہ مرتب کرنے کی فرمائش کی ۔ اس کام کے لیے نواب کی طرف سے نائبےن ‘ نقل نوےس اور دفتری سہولتےں فراہم کرنے کے علاوہ حضرت امےر مےنائی کے لیے باقاعدہ مشاہرہ بھی مقرر کےا گےا۔ امےر مےنائی نے ہر طرف سے بے فکر ہو کر کام کےا۔ چونکہ امےر مےنائی بہت بڑے شاعر اور استادِ فن تھے اس لیے لوگ ان کا وقت ضائع کرنے سے پرہیز کرتے تھے۔ انہےں ضروری حوالے اور مستند کتابےں فراہم کی جاتی تھےں۔ انہوں نے کوئی پانچ سو شعرا¿ کا تذکرہ مرتب کےا ۔ جس کے لیے انہےں مکمل ےکسوئی حاصل تھی۔امےر مےنائی کے علاوہ بھی جن حضرات نے تذکرہ نوےسی کی طرف توجہ کی وہ سب ادبی مرکزوں ےا شہروں سے متعلق تھے اور شب و روز ادبی مسائل و امور پر بات چےت اور تبادلہ¿ خےال کرتے رہتے تھے۔ سلطانہ کو اس طرح کی کوئی آسانی نہےں حاصل تھی ۔ وہ اردو مرکزوں سے بہت دورامرےکہ کے جنوبی مغربی علاقوں مےں تھےں جہاں کسی سے ادبی امور پر گفتگو کرنے کا کےا سوال۔ پڑھنے لکھنے کو کوئی ماحول تک مےسر نہیں تھا۔ ان سے تعاون کرنے ےا ان کا ہاتھ بٹانے والا کوئی نہ تھا بلکہ اےسے متعدد افراد تھے جو ان کے کام مےں رخنہ اندازی کرنے مےں زےادہ دلچسپی رکھتے تھے۔ اس لحاظ سے سلطانہ کا کام اردو کے تمام تذکرہ نگاروں سے زےادہ اہم اور قابلِ قدر ہے۔ اس باب مےں ” اردو شعرا¿ کے تذکرے اور تذکرہ نگاری“ نامی کتاب مصنفہ فرمان فتح پوری دےکھی جا سکتی ہے۔ المےہ ےہ ہے کہ اردو دنےا نے ان کے اس کارنامے کو بڑی لا پروائی سے نظراندازکردےاکےونکہ سلطانہ کے پےچھے اداروں ےاگروہوں کی تائےد نہ تھی۔بڑے بڑے نماےاں ادبی اہلِ نظر بھی ( ابھی تک) حالتِ غمض مےں رہے۔ “ (۸)
 سلطانہ مہر کی تذکرہ نگاری ان کی اپنے فن سے لگن،مسلسل محنت اور لکھنے کے عمل سے محبت کا عملی نمونہ ہے ۔انہوں نے جو کچھ لکھا ہے اس سے ادبی دیانت داری عیاں ہو تی ہے ۔ان کے ایک مضمون سے تذکرہ نگاری کی راہِ پرخار میںان کی محنت ،جانفشانی اور اس کام سے لگن کا پتہ چلتا ہے ۔اپنے مضمون” گہر ہونے تک “ میں وہ لکھتی ہیں:۔
 ”سخن ور (حصہ اول) کے انٹر ویوز لینا میرے لیے مشکل نہ رہا تھا کیونکہ شعرا سے دو بدو ملاقاتیں ہوتی تھیں۔میں سوالات پوچھتی تھی،جوابات ملتے تھے۔سوال سے سوال پیدا ہوتے تھے۔میں نوٹس لیتی تھی۔کیونکہ اس زمانے میں ٹیپ ریکارڈر عام نہ ہونے کی وجہ سے مہنگے بھی تھے اور میرا بجٹ اس کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا ۔پھر میں لکھتی تیز تھی اس لیے دشواری محسوس نہیں ہوتی تھی۔’سخنور‘ حصہ دوم کی نوعیت مختلف تھی۔میں نے سوالات ترتیب دئیے اور اپنی سوانح یا اعمال نامہ(Bio-Data) کے ساتھ شعرا و شاعرات کو روانہ کر دئیے تاکہ انہیں یقین دہانی ہو کے کسی نو آموز نے شوقیہ یا تفریحاً یہ مشغلہ نہیں اپنایا ۔مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ اس سلسلے کا بڑی گرم جوشی سے خیر مقدم کیا گیا اورمیرے کام میں تیزی آتی چلی گئی“(۹)
تذکرہ نگاری سے انہوں نے دراصل معاصر ادبی تاریخ کو مجتمع کر دیا ہے اور تحقیق کے میدان میں کام کرنے والوں کے لیے ان کا یہ کارنامہ آئندہ بہت عرصے تک چراغ راہ ثابت ہو تا رہے گا ۔مشفق خواجہ نے” سخنور“ (دوم) کے دیباچے میں سلطانہ مہر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے کام کو انتہائی اہم اور منفرد قرار دیا ہے ۔وہ لکھتے ہیں۔
”آئندہ اوراق میںآپ کو شعرا¿ کے جو حالات ملیں گے،ان کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ سلطانہ مہر نے ہر شاعر سے ملاقات کر کے اس کے حالات معلوم کئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بعض سوانحی خاکوں میں آپ بیتی کا رنگ نمایاں ہے ۔سلطانہ مہر نے ہر شاعر کے بارے میں بنیادی معلومات ہی جمع نہیں کیں بلکہ بعض مضامین پر ان کی آرا¿ کو بھی اس طرح محفوظ کر دیا ہے کہ ہر شاعر کے ذہنی رجحانات اور ادبی نقطہ ¿ نظر سے بھی آگاہی ہو جاتی ہے ۔اس کتاب میں متعددایسے شعرا¿ کے حالات شامل ہیں،جن کے بارے میں اب تک بہت کم لکھا گیا ہے ۔اور بعض شاعر تو ایسے بھی ہیں،جن سے متعلق سوانحی معلومات صرف اسی کتاب میں ملتی ہیں۔ظاہر ہے یہ صورتحال اس کتاب کی اہمیت وافادیت میں بہت زیادہ اضافہ کرتی ہے ۔مجھے یاد ہے جب سراج الدین ظفر،سید محمد جعفری،تحسین سروردی اور بعض دوسرے شعرا کا انتقال ہوا تھا تو دہلی سے جناب مالک رام نے ان مرحومین کے حالات طلب کئے تھے۔ان کے بارے میں سلطانہ مہر کے مضامین کے سوا کچھ نہیں ملا تھا ۔اور یہی میں نے مالک رام صاحب کوبھیج دئیے تھے۔ان مضامین سے انہوں نے اپنی کتاب”تذکرہ ¿معاصرین“ میں خاصا استفادہ کیا ہے “(۰۱)
 تذکرہ نگاری میں مالک رام کے”تذکرہ ¿معاصرین“کی خاصی اہمیت ہے جس کی تین جلدیں شائع ہو چکی ہیں اور ان میں پونے دو سو شعرا کرام او ر ادیبوں کے حالات موجود ہیں۔
لیکن سلطانہ مہر کی تذکرہ نگاری کی اپنی اہمیت ہے کیونکہ مالک رام مرحوم ادیبوں اور شاعروں کے رشتہ داروں کو بار بار خط لکھتے تھے،اخباری خبروں کے تراشے سنبھالتے تھے اور معلومات کے حصول کے لیے انہیں بہت تگ ودو کرنا پڑی تھی ۔ ان کے مقابلے میں سلطانہ مہر نے زیادہ تر ان افراد کو شامل کیا جو زندہ تھے اور جنھوں نے ان کے سوالات کے جوابات دینے بھی مناسب سمجھے ۔ یہی وجہ ہے کہ برطانیہ سے تعلق رکھنے والے معروف ادیب اور مورخ یعقوب نظامی نے انہیں تذکرہ نوےسی کی ملکہ قرار دیا ہے ۔وہ لکھتے ہیں:۔
”سلطانہ مہر صحافی، شاعرہ،افسانہ نوےس اور ناول نوےس کے ساتھ ساتھ تذکرہ نوےس بھی ہےں۔ تذکرہ نوےسی مےں انہوں نے وہ مقام حاصل کر لےا ہے کہ ان کی شاعری اور دوسرے تخلےقی کام ثانوی حےثےت اختےار کر چکے ہےں۔آج سلطانہ مہر تذکرہ نوےسی کی جس مسند پر بےٹھی ہےں اس مقام پر انہےں دےکھ کر مےں کہتا ہوں کہ سلطانہ مہر تذکرہ نوےسی کی ملکہ ہےں۔ مےں نے انہےں تذکرہ نوےسی کی ملکہ کا ٹائٹل کسی جوش کے تحت نہےں بلکہ ہوش مےں سوچ کے عمل سے گزر کر دےا ہے۔آج اردو زبان دنےا کے کونے کونے مےں پہنچ چکی ہے لےکن ےہ بات اس وقت تک اےک مفروضہ ہی رہتی ہے، جب تک آپ سلطانہ مہر کی تذکرہ نوےسی کی کتابےں” گفتنی اور سخنور “ کا مطالعہ نہ کر لےں۔ سخنور پانچ حصوں پر مشتمل ہے جس مےں چھ سو کے لگ بھگ شعرا¿ کا ذکر ہے اور گفتنی کے دو حصے ہےںجن مےں دو سو نثر نگاروں کے تذکرے موجود ہےں۔ ےہ کتابےںاردو کے شعرا¿ اور نثر نگاروں کا اےک اےسا انسائےکلوپےڈےا ہے جس مےں اےک جہان آباد ہے۔ ممکن ہے کچھ لوگ سلطانہ مہر کو بڑی شاعرہ ،افسانہ نگار ےا ناول نوےس قرار دےں لےکن مےری رائے مےں سلطانہ مہربڑی تذکر ہ نوےس ہےں اور اسی بدولت ےہ ادبی دنےا مےں زندہ رہےں گی۔“(۱۱)
سلطانہ مہر ایک طویل عرصے سے پہلے امریکہ اور اب برطانیہ میں مقیم ہیں۔بظاہر تو وہ پاکستان کے ادبی منظر نامے سے کٹی ہوئی ہیں لیکن ان کے کام کی اہمیت سے پاک وہند کے بیشتر ادیب اور شاعر واقف ہیں۔سلطانہ مہر کو بیرونی ممالک کے تخلیقی کارواں میں نمایاں اہمیت اور حیثیت حاصل ہے اور آج کا دور جس میں جدید ذرائع ابلاغ اور انٹر نیٹ نے انسان کو انسان کے قریب کر دیا ہے ،پوری دنیا کے تخلیق کاروں کے لیے بھی قربت اور رشتوں ناطوں کے نئے پیغامات لایا ہے ۔اسی ناطے سے سلطانہ مہر کی تذکرہ نگاری کے ویب سائیٹس پر آنے سے ان کے کام کی اہمیت دو چند ہو جائے گی۔   
               
      
                                              حوالہ جات                                       
۱۔ڈاکٹر میاں مشتاق ، عہد حاضر میں عروضی شعور (مضمون) مطبوعہ ”دریافت“اسلام آباد ،نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوئجز،۳۰۰۲ءص۷۴
۲۔مشفق خواجہ،”حرفے چند“ (دیباچہ) سخن ور دوم،کیلیفورنیا امریکہ،مہر بک فاونڈیشن ،۶۹۹۱ءص ۴۱
۳۔ایضاً
۴۔جاوید اختر چوہدری،” ہم صورت گر کچھ خوابوں کے“(غیر مطبوعہ مسودہ)
۵۔ایضاً
۶۔ایضاً
۷۔ایضاً
۸۔قیصر تمکین ۔”گفتنی “دوم کی تقریب رونمائی(منعقدہ برمنگھم) میں پڑھے گئے مضمون سے اقتباس
۹۔سلطانہ مہر گہر ہونے تک ،(مضمون)مطبوعہ ”سخن ور“ دوم،کیلیفورنیا، امریکہ،مہر بک فاونڈیشن ،۶۹۹۱ءص۹۱
۰۱۔مشفق خواجہ،”حرفے چند“ (دیباچہ)” سخن ور“ دوم،کیلیفورنیا امریکہ،مہر بک فاونڈیشن ،۶۹۹۱ءص ۵۱
۱۱۔ یعقوب نظامی نے یہ مضمون برمنگھم میں،” سخنور پنجم اور گفتنی دوم“ کی تقریب رونمائی میں پڑھا   

                                اسد مصطفی۔اسسٹنٹ پروفیسر ۔فیڈرل گورنمنٹ ڈگری کالج واہ کینٹ
                
 

Advertisements